![]() |
| عید الفطرکابیان |
عید الفطرکابیان
عید نام ہے ماہِ شوال کے پہلے دن اور ذِی الحجہ کے دسویں دن کا، ان دونوں کو عید اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں لوگ اِطاعت الٰہی یعنی ماہِ رَمضان کے فرض روزے اور حج سے فارغ ہوئے اور اِطاعت رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی طرف لوٹ آئے یعنی انہوں نے شوال کے چھ روزے رکھے اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی زیارت کی تیاری کی،یا انہیں عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ دن ہر سال لوٹ آتے ہیں ، یا اس لئے کہ اس میں اللہ تَعَالٰی بار بار فضل و کرم کرتا ہے، یا اس لئے کہ ان کے آنے سے خوشیاں لوٹ آتی ہیں ، بہر حال تمام توجیہات میں عَود کا معنٰی پایا جاتا ہے۔
پہلی نمازِ عید
حضور صَلَّی اللہُ
عَلَیْہِ وَسَلَّم نے
پہلی نمازِ عید ۲ ھ میں نمازِ
عید الفطرادا کی اور پھر اسے کبھی ترک نہیں فرمایالہٰذا یہ سنت مؤکدہ ہے۔
التلخیص الحبیر فی تخریج أحادیث الرافعی الکبیر للعسقلانی،کتاب صلاۃ العیدین، ۲/۱۸۹
حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ اپنی عیدوں کو تکبیروں سے زینت بخشو۔
المعجم الاوسط ، ۳/۲۱۵، الحدیث ۴۳۷۳
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ جس شخص نے عید کے دن تین سو مرتبہ سُبحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖپڑھا اور مسلمان مردوں کی رُوحوں کو اس کا ثواب ہدیہ کیا تو ہر مسلمان کی قبر میں ایک ہزار اَنوار داخل ہوتے ہیں اور جب وہ مرے گا اللہتعالیٰ اس کی قبر میں ایک ہزار اَنوار دَاخل فرمائے گا۔
نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس، باب فضل عرفۃ والعیدین والتکبیر والأضحیۃ، ۱/۲۲۹
حضرتِ وَہْب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا کہنا ہے کہ شیطان ہر عید پر نوحہ وزاری کرتا ہے اور تمام شیطان اس کے ارد گرد جمع ہوکر پوچھتے ہیں : اے آقا! آپ کیوں غضبناک اور اداس ہیں ؟ وہ کہتا ہے: اللہتعالیٰ نے آج کے دن امت محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو بخش دیا ہے لہٰذا تم انہیں لذتوں اور خواہشاتِ نفسانی میں مشغول کرو۔
حضرتِ وَہْب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے عید الفطر کے دن جنت کو پیدا فرمایا اور دَرخت طوبیٰ عید الفطر کے دن بویا، جبریل کا وَحی کے لئے عید الفطر کے دن اِنتخاب کیا اور فرعون کے جادوگروں کی توبہ بھی اللہ تَعَالٰی نے عید الفطر کے دن قبول فرمائی۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جس نے عید کی رات طلب ثواب کے لئے قیام کیا، اس دن اس کا دل نہیں مرے گاجس دن تمام دل مرجائیں گے۔
معرفۃ السنن والآثار للبیھقی، کتاب صلاۃ العید ین، باب عبادۃ لیلۃ العیدین، ۳/۶۷، الحدیث۱۹۵۸
حکایت:
حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانی قمیص پہنے دیکھا تو روپڑے، بیٹے نے کہا:
ابا جان! آپ کس لئے روتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: اے بیٹے! مجھے اَندیشہ ہے کہ آج عید کے دن
جب لڑ کے
تجھے اس پھٹے پرانے قمیص میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے گا، بیٹے نے جواب دیا: دِل تو اس کا
ٹوٹے جو رضائے الٰہی کو نہ پاسکا یا اس نے ماں یا باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے
امید ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل اللہتعالیٰ
بھی مجھ سے راضی ہوگا۔ یہ سن کر حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ روپڑے، بیٹے کو گلے لگایا
اور اس کے
لئے دعا کی۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: ؎
قالوا غدا العید ماذا
انت لابسہ قلت خلعۃ
ساق عبدہ الجرعا
فقر وصبر ثوبان بینہما قلب یری
ربہ الاعیاد والجمعا
العید لی مأتما ان غبت یا املی والعید
انکنت لی مرأی و مستمعا
{1}…انہوں نے کہا کل عید ہے
تم کیا پہنو گے؟ میں نے کہا ایسی پوشاک جس نے بندے کو رفتہ رفتہ بہت کچھ دیا۔
{2}… فقر اور صبر دو کپڑے
ہیں اور ان کے
درمیان دل ہے جس کو اس کامالک عیدوں اور جمعوں میں دیکھتا
ہے۔
{3}…تب میری عید نہیں ہوگی، اے امید اگر تو مجھ سے غائب ہوجائے، اور اگر تو میرے سامنے اور کانوں کے قریب ہوئی تو پھر میری عید ہے۔
یہ بات بھی وارِد ہے کہ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہتعالیٰ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو زمین پر اُترتے ہیں اور وہ گلی کوچوں اور راستوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور بلند آواز سے کہتے ہیں جسے جن و انسان کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے، وہ کہتے ہیں : اے محمد (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی اُمت! اپنے ربِ کریم کی طرف آؤ، وہ تمہیں عطاءے عظیم دے گا اور تمہارے بہت بڑے گناہ معاف فرمائے گا اور جب لوگ عید گاہوں میں آجاتے ہیں تو اللہتعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: مزدوری کا بدلہ کیا ہے جب وہ اپنا کام مکمل کرلے؟ فرشتے کہتے ہیں : اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے پورا اَجر دیا جائے، تب اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں ، میں نے ان لوگوں کے لئے اپنی بخشش اور رضا کو ان کا اجر بنایا ہے۔
عِیادت کا عظیمُ الشّان ثواب
شَہَنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ مُعطَّر پسینہ، باعثِ نُزولِ
سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے فرمایا:'' جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے جاتاہے اللہ
عَزَّوَجَلَّاُس پر پچھتّر
ہزار ملائِکہ کے ذَرِیعے سایہ فرماتا ہے ، وہ فرِشتے اس کے لئے دُعا کرتے ہیں اور
وہ فارِغ ہونے تک رَحمت میں غو طہ زن رہتا ہے اور جب وہ اس کام سے فارِغ ہوجاتاہے تو
اللہ عَزَّوَجَلَّاس کے لئے ایک حج اور ایک
عمرے کا ثواب لکھتاہے ۔اور جس نے مریض کی عیادت کی اللہ
عَزَّوَجَلَّاس پر پ پچھتّر
ہزار ملائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپَس آنے تک اسکے ہرقدم اٹھانے پر
اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا
جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے
ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔''(التر غیب والتر
ھیب حدیث ۱۳ ، ج۴ ، ص ۱۶۵)

.gif)